چند
برسوں سے وطن عزیز مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگ قتل ہو
رہے ہیں، املاک تباہ کی جارہی ہیں، وحشت کا کھیل ہے جس کے اصل کھلاڑی وہ
ہیں جو پہلے دن سے پاکستان کو ختم کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ اپنے مذموم
مقاصد کی تکمیل کے لیے وہ اپنے ایجنٹوں اور سادہ ذہن کے مسلمانوں کو ورغلا
کر پاکستان پر حملہ آور ہیں اور نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ مسلمان آپس
میں دست و گریباں ہیں اور صیاد اپنی چالبازی پر خوش ہو رہا ہے۔
ایک شخص گزرا ہے جس نے ڈالروں کے عوض ہزاروں مسلمانوں کے قتل کے لیے ہوائی
اڈے فراہم کیے، تکبر کی انتہاء کو پہنچتے ہوئے لال مسجد کو مسلمان بچیوں کے
خون سے لال کر دیا، پاکستانی مسلمان بچیوں کو اغوا کر کے یہود و نصاریٰ کے
ہاتھ فروخت کیا اور صلیبی جنگوں کا نعرہ لگانے والے بش کا پرجوش حامی رہا
صلیبیوں*کے گن گاتا رہا۔ پاکستانی عوام نے اس کے اقدامات کو کبھی اچھا نہیں
سمجھا، معاصر تاریخ کے انتہائی غیرمقبول حکمرانوں میں اس کا شمار ہوا لیکن
غلط پالیسیوں کا نتیجہ آج پاکستانی عوام اپنے خون کی صورت ادا کر رہے ہیں۔
اللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے تو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ
مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، اللہ تعالیٰ فرماتے
ہیں کہ یہ میرے عذاب کی ایک شکل ہے:
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى
أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ
أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ
بَعْضٍ
(سورۃ الانعام ۶۵)
''کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر
کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا
تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ
چکھوا دے۔''
یہود و نصاریٰ کی چاکری کرنے والوں اور ردعمل کے شکار
مظلوم دونوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام
ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا
مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ
عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا
(سورۃ النساء۔93 )
''رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس
میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اس کے
لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا
فإِنَّ دِماءَكم وأموالكم وأعراضكم وأبشارَكم عليكم حَرام كحرْمةِ يومكم
هذا، في شهركم هذا، في بَلدِكم هذا. ألا هل بَلغتُ؟ قلنا: نعم۔
(صحیح البخاری 6924 )
''تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن
(عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم
تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ''جی ہاں۔''
امت کے جسم پر دشمنوں کے لگائے ہوئے زخم ہی کافی ہیں تم اس پر مزید وار نہ کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے
'' من حملَ علينا السلاحَ فليسَ من
(صحیح البخاری حدیث نمبر6916 )
''جس نے ہم (مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''
ہتھیار کے ساتھ مسلمان کی طر ف اشارہ کرنے سے بھی منع فرمایا مبادا کہ کسی کلمہ گو کو تکلیف پہنچ جائے، فرمایا
لا يُشيرُ أحدُكم على أخيهِ بالسلاح، فإِنه لا يدري لعلَّ الشيطانَ يَنزغُ في يدَيه فيقع في حُفرَة منَ النار
(صحیح البخاری حدیث نمبر 6918 )
'' تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے۔ اسے کیا
معلوم کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے اسے (ہتھیارکو) گرا دے (یا چلا دے) تو
(مسلمان کو قتل کرنے کی وجہ سے) وہ جہنم کے ایک گڑھے میں جا گرے۔''
دورِ نبوی میں کوئی شخص اگر تیر لے کر مسجد یا بازار میں جاتا تو اسے حکم
دیا جاتا تھا کہ وہ اس کی نوک کو پکڑے رہے تاکہ کسی مسلمان کو خراش نہ آ
جائے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر 6918
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی امت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا
''لا ترجِعوا بَعدي كفّاراً يَضرِبُ بعضُكم رِقابَ بعضٍ
(صحیح البخاری کتاب الفتن۔ باب لا ترجعوا بعدی کفارا)
میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ آپس میں ایکدوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔''
اور فرمایا
سِبابُ المسلم فُسوقٌ وقِتالُهُ ك فرٌ
(صحیح البخاری۔ حدیث نمبر6922)
''مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔''
مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے
إذا تَواجَهَ المسلمان بسيفَيهما فكلاهما من أهل النار. قيل: فهذا القاتل، فما بالُ المقتول؟ قال: إنه أرادَ قتلَ صاحبه
(بخاری حدیث نمبر6929)
'' جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں
جہنم میں جائیں گے۔'' صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل
ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا '' اس لیے
کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔''
اللہ
تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قحط
کے ذریعے تباہ نہ کی جائے گی، اور نہ کوئی ایسا دشمن باہر سے ان پر مسلط
کیا جائے گا جو انہیں بالکل ختم کر دے۔ امت محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ
وسلم کی تباہی ایکدوسرے کو قتل کرنے کی وجہ سے ہو گی۔ اصل الفاظ یہ ہیں
حَتَّىٰ يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْض اً،
(صحیح المسلم حدیث نمبر7207)
''یہاں تک امت کا ایک گروہ دوسرے گروہ کو ہلاک کرنے لگے۔''
مذکورہ بالا آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہونا
چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے
گمراہ لوگ ہیں جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان
اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام
کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا
کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے
کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ
نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
(المائدۃ۔32)
'' جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی
اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی
کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔''
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر
بھیجا۔اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے صبحدم اپنے دشمنوں کو جا لیا
اور انہیں شکست دی۔ ان میں سے ایک شخص میرے اور ایک انصاری صحابی کے قابو
میں آگیا۔ جب ہم نے اس پر قابو پایا تو اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا۔ اس
پر انصاری صحابی نے اسے چھوڑ دیا لیکن ( میں نے سمجھا کہ وہ جان بچانے کے
لیے کلمہ پڑھ رہا ہے اس لیے)میں نےاسے نیزہ مارا اورختم کر دیا۔ پھر ہم
واپس ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے
فرمایا '' اے اسامہ! تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر
دیا؟'' میں نے عرض کیا ''وہ جان بچانا چاہتا تھا۔'' لیکن نبی صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم بار بار اس جملے کو دہراتے رہے کہ '' اے اسامہ! تو نے اسے لا
الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا؟'' حتٰی کہ میں نے تمنا کی کاش
میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا (تو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے میرا یہ گناہ ختم
ہو جاتا)۔
(بخاری حدیث نمبر4170)
علمائے کرام کی ذمے داری ہے
کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور
انہیں اِن لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا
لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں۔
قرآن و حدیث کی ان نصوص پر غور کر کے فریقین کو اپنی آخرت کی فکر کرنی
چاہیے۔ صلیبیوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی، اور جوش انتقام میں
اندھا ہو جانے والوں کو بھی۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس مضمون
کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں، اپنے جاننے والوں کو ای میل کریں، ویب سائٹ کا
ربط دیں وغیرہ۔ شاید اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ذریعے ہدایت دے دیں اور
ہمیں ان لوگوں میں شمار کر لے جنہوں نے کسی انسان کی جان بچا کر ساری
انسانیت کو بچا لیا۔
No comments:
Post a Comment