Saturday, 23 November 2013

صبر

حکایت ہے کہ حضرت ابراہیم بن ادھم رحمہ اللھ کسی جنگل سے گزر رہے تھے کہ انھیں ایک سپاہی ملا جس نے انسے آبادی کی جانب جانے والا راستہ دریافت کیا۔۔۔ آپ نے سامنے قبرستان کا اشارہ کردیا ( یہ حضرت رحمہ اللھ نے بطور تشبہیہ فرمایا کہ سب کو اس آبادی کی جانب ایک نہ ایک دن جانا ہی ہے ) اسنے اس بات پر آپ کے سر پر ایک درہ مارا۔ جس سے بہت خون نکلا۔۔۔

وہ سپاہی آگے چلا گیا ۔ آگے جاکر کسی نے کہا کہ تم سے پہلے جو شخص یہاں سے گزرے ہیں وہ خراسان کے بہت بڑے زاہد ابراہیم ابن ادھم ہیں۔ اس پر وہ واپس لوٹا اور آپ سے معافی مانگی۔

آپ نے فرمایا: جب تو نے مجھے مارا تھا تو باوجود سخت تکلیف کے میں نے تجھے نہ صرف معاف کیا بلکہ تیرے لئے جنت کی دعا کی۔۔۔

اسنے پوچھا کہ وہ کیوں ؟

حضرت رحمہ اللھ نے فرمایا کہ: مجھے اس صبر پر اجر ملتا تو مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ تو اس اجر سے محروم رہ جائے۔۔۔

واہ کیا بات اہل اللہ کی۔۔۔ سبحان اللہ

No comments:

Post a Comment