جب
رسول الله (ﷺ) کو طائف کے لوگوں نے زخمی کردیا اور سخت اہانت اور بیحرمتی
والا رویہ اختیار کیا ...شریر لڑکوں کو پیچھے لگا دیا...کہ آپکا مذاق
اڑائیں...تالیاں پیٹیں...پتھر ماریں ..حتیٰ
کہ آپکے دونوں جوتے خون کے جاری ہونے سے رنگین ہو گئے ..تو سید کاینات (ﷺ)
نے دعا مانگی...مالک الملک کی شان قہاری کو جوش آنا ہی تھا ..کہ حضرت
جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر سلام کیا ..اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی
وہ گفتگو جو آپ سے ہوئی سنی اور ان کے جوابات سنے اور ایک فرشتہ کو جس کے
متعلق پہاڑوں کی خدمت ہے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ جو چاہیں اس کو حکم دیں،
اس کے بعد اس فرشہ نے سلام کیا اور عرض کیا کہ جو ارشاد ہو میں اس کی
تعمیل کروں اگر ارشاد ہو تو دونوں جانب کے پہاڑوں کو ملا دوں جس میں یہ سب
درمیان میں کچل جائیں یا اور جو سزا آپ تجویز فرمائیں۔ حضور کی رحیم و کریم
ذات نے جواب دیا کہ میں اللہ سے اس کی امید رکھتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان
نہیں ہوتے تو ان کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی پرستش کریں
اور اس کی عبادت کریں۔
یہ ہیں اخلاق کریم ذات کے جس کے ہم لوگ نام لیوا ہیں کہ ہم ذرا سی تکلیف سے کسی کو معمولی سی گالی دیدینے سے ایسے بھڑک جاتے ہیں کہ پھر عمر بھر اس کا بدلہ نہیں اترتا ظلم پر ظلم اس پر کرتے رہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں اپنے محمدی ہونے کا، نبی کے پیرو بننے کا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی سخت تکلیف اور مشقت اٹھانے کے باوجود نہ بددعا فرماتے ہیں نہ کوئی بدلہ لیتے ہیں۔
یہ ہیں اخلاق کریم ذات کے جس کے ہم لوگ نام لیوا ہیں کہ ہم ذرا سی تکلیف سے کسی کو معمولی سی گالی دیدینے سے ایسے بھڑک جاتے ہیں کہ پھر عمر بھر اس کا بدلہ نہیں اترتا ظلم پر ظلم اس پر کرتے رہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں اپنے محمدی ہونے کا، نبی کے پیرو بننے کا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی سخت تکلیف اور مشقت اٹھانے کے باوجود نہ بددعا فرماتے ہیں نہ کوئی بدلہ لیتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment