صحیح بخاری
کتاب العلم
|
حدیث نمبر: 64
حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال حدثني إبراهيم بن
سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن
مسعود، أن عبد الله بن عباس، أخبره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث
بكتابه رجلا، وأمره أن يدفعه إلى عظيم البحرين، فدفعه عظيم البحرين إلى
كسرى، فلما قرأه مزقه. فحسبت أن ابن المسيب قال فدعا عليهم رسول الله صلى
الله عليه وسلم أن يمزقوا كل ممزق.
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان
کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے صالح کے واسطے سے روایت کی، انھوں نے ابن شہاب سے،
انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ان سے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک
شخص کو اپنا ایک خط دے کر بھیجا اور اسے یہ حکم دیا کہ اسے حاکم بحرین کے پاس لے
جائے۔ بحرین کے حاکم نے وہ خط کسریٰ (شاہ ایران) کے پاس بھیج دیا۔ جس وقت اس نے وہ
خط پڑھا تو چاک کر ڈالا (راوی کہتے ہیں) اور میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے (اس کے
بعد) مجھ سے کہا کہ (اس واقعہ کو سن کر) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اہل ایران کے لیے بددعا کی کہ وہ (بھی چاک شدہ خط کی طرح) ٹکڑے
ٹکڑے ہو جائیں۔
|
حدیث نمبر: 65
حدثنا محمد بن مقاتل أبو الحسن، أخبرنا عبد الله،
قال أخبرنا شعبة، عن قتادة، عن أنس بن مالك، قال كتب النبي صلى الله
عليه وسلم كتابا ـ أو أراد أن يكتب ـ فقيل له إنهم لا يقرءون كتابا إلا مختوما.
فاتخذ خاتما من فضة نقشه محمد رسول الله. كأني أنظر إلى بياضه في يده. فقلت
لقتادة من قال نقشه محمد رسول الله قال أنس.
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے
بیان کیا، ان سے عبداللہ نے، انہیں شعبہ نے قتادہ سے خبر دی، وہ حضرت انس بن مالک
رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی
بادشاہ کے نام دعوت اسلام دینے کے لیے) ایک خط لکھا یا لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ بغیر مہر کے خط
نہیں پڑھتے (یعنی بے مہر کے خط کو مستند نہیں سمجھتے) تب آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ جس میں ”محمد رسول اللہ“ کندہ تھا۔ گویا میں
(آج بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی
دیکھ رہا ہوں۔ (شعبہ راوی حدیث کہتے ہیں کہ) میں نے قتادہ سے پوچھا کہ یہ کس نے کہا
(کہ) اس پر ”محمد رسول اللہ“ کندہ
تھا؟ انھوں نے جواب دیا، انس رضی اللہ عنہ نے۔
|
No comments:
Post a Comment